سوکھے گوشت

سرکار کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور شان ایسی تھی کہ جو کوئی بھی انہیں پہلی بار دیکھتا اس پر ہیبت طاری ہو جاتی اور وہ کافی گھبرا جاتا۔ آپ صحت مند اور جسمانی لحاظ سے کافی مضبوط تھے۔ مگر اس کے باوجود آپ کا دل مخمل کی طرح نرم تھا۔آپ ہر ایک سے بڑی شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں اگر کہوں تو آپ سب کو اپنی نرم مزاجی اور حسن اخلاق سے اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے۔ لوگوں کو آپ کی صحبت میں رہ کر دلی اور روحانی سکون ملتا تھا۔
ایک دن ایک شخص آپ کو دیکھنے کے لیے آیا۔ وہ آپ کا نورانی چہرہ دیکھ کر گھبرا گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اور ڈر جاتا آپ نے اس کے ساتھ بڑا نرم اور پرسکون لہجہ اپنایا اور کہا: ”گھبراؤ نہیں! پرسکون ہو جاؤ! میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں۔ میں بھی قریشی خاندان کا ایک بچہ ہوں۔ ایک عام عورت کا بیٹا جو سوکھے گوشت کھاتی ہے۔“ ماشاء اللہ! کتنا سادہ اور عاجزانہ جواب ہے۔
در اصل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت بڑے متواضع انسان تھے جو گھر کے کاموں میں اپنی بیویوں کی مدد کرتے تھے اور ہمیشہ ایک معمولی سی چادر بچھا کر زمین پر بیٹھتے تھے۔ اتنا ہی نہیں وہ بکریوں کا دودھ بھی دوہتے تھے اور اپنے جوتے خود صاف کرتے تھے۔ وہ اپنے معمولی سے گدھے پرسوار ہو کر سفر کرتے اور تمام لوگوں کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرتے تھے۔

Leave a Comment